اعداد وشمار
مادہ
سجدہ شکر
درس کا خلاصہ
شکر کے لیے نوافل پڑھنا ثابت نہیں ہے۔ صرف سجدہ کرنا اللہ کے نبی ﷺ کی سنت ہے ۔
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
سجدہ شکر
محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ
سیدنا ابوبکرہ فرماتے ہیں:
« أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - كَانَ إِذَا جَاءَهُ أَمْرٌ يَسُرُّهُ خَرَّ سَاجِدًا لِلَّهِ» ([1])
’’جب رسول اللہ ﷺ کے پا س کوئی ایسی خبر آتی جو آپ ﷺ کو خوش کردیتی تو آپﷺ اللہ کے حضورسجدہ ریز ہوتے اور سجدہ شکربجا لاتے۔‘‘
سیدنا عبدالرحمٰن ابن عوف کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ بڑا لمبا سجدہ کیا اور سجدے سے سر اٹھاکر فرمایا:
«إِنَّ جِبْرِيلَ آتَانِي, فَبَشَّرَنِي, فَسَجَدْت لِلَّهِ شُكْرًا» ([2])
’’ جبرائیل امین میرےپاس آئے تھے اور مجھے انہوں نے خوشخبری دی تو میں نے اللہ کا شکر ادا کرنےکے لیے سجدہ کیا۔‘‘
سیدنا براء ابن عازب بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا علی کو یمن کی طرف بھیجا۔ وہاں سے سیدنا علی نے اہل یمن کے اسلام کے بارے میں خط لکھا کہ یہ مسلمان ہو گئے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے جب خط پڑھا تو آپ ﷺ سجدے میں گر گئے۔([3])
یعنی رسول اللہ ﷺ کے پاس جب کوئی خوشخبری آتی تو آپ ﷺ اللہ کے حضور سجدہ کرتے جسے سجدہ شکرکہا جاتا ہے ۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ سجدے میں جائیں اور اللہ کی حمد و ثناء اور تسبیحات بیان کریں۔یہ ہے سجدہ شکر ۔کچھ لوگ شکرانے کے نفل پڑھتے ہیں۔یہ ثابت نہیں ہیں۔ شکرانے کے طور پر صرف سجدہ ثابت ہے جو نبیﷺ نے بھی کیا ہے۔ ہاں! اگر کسی آدمی نے نذر مانی ہے کہ میرا یہ کام ہوجائے گا تو میں اتنے نفل پڑھوں گا تو وہ نذر کے ہیں۔ انہیں پڑھنا ٹھیک ہیں۔ جیسے نذر کے روزے ، نذر کا صدقہ وغیرہ دیا جاتا ہے۔ نذر اللہ کی نافرمانی والی نہ ہو تو جو بھی نذر مانے، وہ پوری کرنی چاہیے۔ لیکن شکر کے لیے نوافل پڑھنا ثابت نہیں ہے۔ صرف سجدہ کرنا اللہ کے نبی ﷺ کی سنت ہے ۔
___________________________
([1]) أبو داود (2774)، والترمذي (1578)، وابن ماجه (1394)، وأحمد (5/ 45)
([2]) أحمد (1/ 191)، والحاكم (1/ 550)
([3]) البيهقي (2/ 369)، وَأَصْلُهُ فِي الْبُخَارِيِّ، انظر (8/ 65 / فتح)
-
الخميس AM 11:31
2023-02-09 - 906





