اعداد وشمار

0
سافٹ ویر
14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
283
فتاوى
58
مقالات
188
خطبات

مادہ

قنوت نازلہ

درس کا خلاصہ

قنوت نازلہ کی دعاء



  آڈیو فائل ڈاؤنلوڈ کریں


الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!

قنوت نازلہ

محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ

سیدناابو ہریرہ﷜ کہتے ہیں کہ  نبیﷺ آخری  رکوع سے سر اٹھاتے تو کہتے:

«اللَّهُمَّ أَنْجِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، اللَّهُمَّ أَنْجِ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الوَلِيدَ بْنَ الوَلِيدِ، اللَّهُمَّ أَنْجِ المُسْتَضْعَفِينَ مِنَ المُؤْمِنِينَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ» ([1])

’’اے اللہ! عیاش بن ابی  ربیعہ کو نجات دے اور سلمہ بن ہشام کو بھی نجات دے  اور ولید بن ولید کو بھی رہائی عطا کر ، اور جو کمزور مومنین ہیں، ان کو بھی نجات دے۔ اے اللہ! مضر پر اپنی پکڑ سخت کر لے۔اے اللہ! ان پر ایسی قحط سالی نازل فرما جیسے یوسف﷤ کے دور  میں قحط سالی آئی تھی۔‘‘

قنوت نازلہ میں نبیﷺ کی دعاء اور بد دعاء کےیہ چند الفاظ ہیں جو سیدنا ابو ہریرہ﷜نے ذکر کئے کہ فجر کی نماز کی آخری رکعت کے رکوع کے بعد  آپﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے ۔

سیدنا عبداللہ ابن عباس﷜ کہتے ہیں نبی ﷺ نے پورا مہینہ قنوت نازلہ کی، فجر میں  بھی ، ظہر میں بھی ، عصر میں بھی مغرب اور عشاءمیں بھی ۔ جب نماز کے آخر میں ’’سمع اللہ لمن حمدہ‘‘ کہتے  یعنی آخری رکعت کے رکوع سے اٹھتے   تو بنی سُلَیْم کے کچھ قبیلے تھے آپ ﷺ ان کےلیے بد دعا کرتے یعنی رِعْل ،ذَکْوَان اور عُصَیَّہ قبائل  کے خلاف آپ ﷺ بددعا کرتے اور آپ ﷺ کے مقتدی اس پر آمین کہتے تھے۔ ([2])

سیدنا عبداللہ ابن عمر﷜کہتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کو سنا فجر کی نماز میں، رکوع کے بعد آپ ﷺ اٹھے اور ’’ربنا ولک الحمد‘‘ کہا اور پھر کہا: «اللَّهُمَّ العَنْ فُلاَنًا وَفُلاَنًا وَفُلاَنًا»

’’اے  اللہ! فلاں، فلاں اور فلاں پر لعنت فرما۔‘‘

یعنی کافر قبائل کےنام لے کر ان پر آپ ﷺ نے لعنت فرمائی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے سورہ آل عمران کی یہ آیت نازل فرمائی:

لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْھِمْ اَوْ يُعَذِّبَھُمْ فَاِنَّھُمْ ظٰلِمُوْنَ۝۱۲۸› [آل عمران: 128]

’’آپﷺ  کےلیے معاملےمیں کوئی اختیار نہیں ہے  چاہےتو اللہ انہیں عذاب دے چاہے تو اللہ انہیں بخش دے۔ یقیناً یہ لوگ ظالم ہیں ۔‘‘([3])

 اس کے بعد اللہ کےنبی ﷺ نے  پانچوں نمازوں میں قنوت کاسلسلہ تھا اسے ختم کردیا لیکن کبھی کبھی  قنوت کیاکرتے تھے ۔جیسا کہ سیدنا انس ابن مالک﷜ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ  ہاتھ اٹھا کر ان لوگوں کےخلاف بددعا کرتے تھے  جنہوں نے صحابہ کرام﷢ کو شہید کیا تھا۔ ([4])

سیدنا ابو ہریرہ﷜بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ  جب رکوع کے بعد ’’ربنا لک الحمد‘‘ کہتے تو اس وقت جو مسلمان قید تھے، ان کے نام لے کر ان کی نجات اور رہائی کی دعا کرتے ۔([5])

ابو رافع کہتے ہیں کہ میں نے عمر ابن الخطاب﷜کےپیچھے نماز پڑھی  تو انہوں نے رکوع کے بعد قنوت نازلہ کی۔ دعا اونچی آواز میں  کی اور ہاتھ بھی اٹھائے۔([6])

  دعا کرنے کے لیے یہ قنوت نازلہ میں ثابت شدہ عمل ہے ۔ نبیﷺ نے بھی باآواز  بلند قنوت نازلہ کی ۔قنوت نازلہ میں ہاتھ اٹھانا، امام کااونچی آواز میں  دعائے قنوت کرنا  اور مقتدیوں کا اس پر آمین کہنا، یہ سب نبی ﷺ سے ثابت  ہے ۔ ویسے عمومی اصول او ر قانون اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے رکھا ہے کہ :

‹اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْيَۃً۝۰ۭ› [الأعراف: 55]

’’اللہ سے دعا مانگو تضرع کے  ساتھ اور چپکے چپکے ۔‘‘

 یہ ایک عمومی  اصول او ر قاعد ہ ہے، لیکن جو دعائیں کرنے کے لیے نبی ﷺ نے ہاتھ اٹھائے ہیں، ان  دعاؤں کے لیے ہاتھ بھی اٹھائے جائیں گے اور وہ اونچی آواز سے بھی کی جائیں گی۔ وہ دعائیں اس عمومی قانون سے  مستثنیٰ قرار پاتی ہیں۔ قنوت نازلہ بھی ان دعاؤں میں سے  ہے جس پر نبیﷺ نے ہاتھ بھی اٹھائے ہیں اور اونچی آواز سے دعا کی ہے  اور مقتدیوں نے آپ کی دعا پر آمین بھی کہا ہے ۔

___________________________________

([1])           البخاري (1006)

([2])           أبو داود (1443)

([3])           البخاري (4069)

([4])           أحمد (12402)

([5])           البخاري (1006)

([6])           البیھقي (3150)

  • الخميس AM 11:58
    2023-02-09
  • 1037

تعلیقات

    = 5 + 3

    /500
    Powered by: GateGold