اعداد وشمار

0
سافٹ ویر
14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
283
فتاوى
58
مقالات
188
خطبات

مادہ

قنوت نازلہ کا طریقہ

درس کا خلاصہ

قنوت نازلہ کے احکام و مسائل



  آڈیو فائل ڈاؤنلوڈ کریں


الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!

قنوت نازلہ کا طریقہ

محمد رفیق طاہر وفقہ اللہ

سیدنا انس ابن مالک﷜ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے پورا ایک مہینہ رکوع کے بعد قنوت نازلہ کی اور قنوت میں بنی سلیم کےکچھ قبائل پر بد دعا کرتے تھے۔ وجہ یہ تھی کہ نبیﷺ نے لوگوں کو دین پڑھانے کےلیے تقریباً ستر قراء کو بھیجا تو انہوں نے ان قراء اور علماءصحابہ کو شہید کردیا۔ نبی ﷺ اور ان کے درمیان عہد تھا لیکن انہوں نے ان صحابہ کو قتل کیا تو نبی ﷺ کو ان کا بہت غم لگا۔ اس وجہ سے نبیﷺ پانچوں نمازوں میں قنوت نازلہ کرتے رہے ۔([1])

سیدنا انس ابن مالک﷜ ہی فرماتے ہیں کہ  آپﷺ پورا مہینہ فجر کی نماز میں قنوت ِ نازلہ کرتے رہے اور عرب کے قبائل رِعْل، ذکوان اور  بنی لحیان کے خلاف بددعائیں کرتے رہے۔([2])

سیدنا انس ابن مالک ﷜ کہتے ہیں کہ نبی کریمﷺ رعل،ذکوان اورعصیہ پر لعنت کرتے تھے۔ ([3])

یعنی ان کےلیے  اللہ کی رحمت سے دوری کی بد دعا کرتے تھے ۔

سیدنا انس بن مالک ﷜ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے پورا ایک مہینہ قنوت نازلہ کرنے کے بعد  پھر اسے چھوڑ دیا۔([4])

 وجہ اس کی یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے  قرآن مجید میں یہ آیات نازل کیں:  

‹لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْھِمْ اَوْ يُعَذِّبَھُمْ› [آل عمران: 128]

’’آپﷺ کےلیے کوئی اختیار نہیں ہے۔ اللہ چاہے تو انہیں عذاب دے، چاہے تو  ان کی توبہ قبول کرلے۔‘‘

 اس کے بعد آپ ﷺ نے نماز کی آخری رکعت میں  رکوع کے بعد قنوت نازلہ کرنے کا جو تسلسل باندھا ہوا تھا،  اسے ترک کردیا۔ لیکن ضرورت کے تحت مسلمانوں کی مناصرت کے لیے دعا اور اسی طرح کفارکے لیے بد دعا کرنےکےلیے قنوت نازلہ کیا جاسکتا ہے ۔

نبیﷺ کا معمول تھا کہ جب کسی قوم کے حق میں دعا یا کسی کے خلاف بددعا کرنی ہوتی تو آپ ﷺ آخری رکعت میں رکوع کے  بعد قنوت نازلہ کرتے۔([5])

ہاتھ اٹھا کر آپﷺ دعا کرتے ([6])اور جو آپﷺ کے پیچھے ہوتے وہ آمین کہتے ۔ ([7])

ان روایات سے پتہ چلتا ہے کہ نماز کی آخری رکعت میں رکوع کے بعد ہاتھ اٹھا کر قنوت نازلہ کرنا نبیﷺ کی سنت ہے  ۔ آج  جس طرح کے حالات ہیں کہ مسلمان محکوم اور کمزور ہیں۔ ان پر ظلم وستم ڈھائے جارہے ہیں۔علاوہ ازیں  مسلمانوں کے داخلی  طور پر حالات بھی انتہائی پریشان کن ہیں۔ اس طرح کے حالات میں  قنوت نازلہ کرنا رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے ۔ اور کفار اور ان کے ممالک کے نام لے کر بھی بددعا کی جاسکتی ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ رعل ، ذکوان اور عصیہ  کا نام لے لے کر بد دعا کرتے  تھے۔اسی طرح مسلمانوں کے جو اہم لوگ ہیں ان کا نام لے کر دعا کی جاسکتی ہے جس طرح  رسول اللہ ﷺ دعا کرتے تھے: ’’اے اللہ! ولید ابن ولید کو نجات دے ۔‘‘وہ قید تھے، اورنبیﷺ قنوت نازلہ میں ان کا نام لے کر رہائی کی دعا کیا کرتے تھے ۔ اسی  طرح مسلمانوں کے حکا م اور مسلمانوں کے سرکردہ افراد کا یا مجاہدین کا نام لے کر ان کے لیے دعا  کی جا سکتی ہے۔یہ قنوت نازلہ میں نبی ﷺ سے ثابت ہے ۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ امام نمازکی آخری رکعت میں ہاتھ اٹھا کر دعا کرےاور مقتدی اس پر آمین کہیں، خواہ وہ نماز نفل ہو یا فرض۔جو کا م فرض نماز میں ثابت ہے، وہ نفل نماز میں بھی کیا جا سکتا ہے۔

_____________________________

([1])           البخاري (1002)

([2])           البخاري (4091)

([3])           مسلم (675)

([4])           مسلم (677)

([5])           البخاري (4560)

([6])           أحمد (12402)

([7])           أبو داود (1443)

  • الخميس PM 12:01
    2023-02-09
  • 1039

تعلیقات

    = 7 + 8

    /500
    Powered by: GateGold