اعداد وشمار

0
سافٹ ویر
14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
283
فتاوى
58
مقالات
188
خطبات

مادہ

امامت میں ایثار

درس کا خلاصہ

مسافر کو بھی امام بنایا جاسکتاہے لیکن اگر مقیم امام ہی امامت کروائے اگرچہ مسافرامام علم میں زیادہ ہی کیوں نہ ہو، مقیم مقرر کردہ امام ہی امامت کروالے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔



  آڈیو فائل ڈاؤنلوڈ کریں


الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!

امامت میں ایثار

محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ

سیدنا ابو مسعود بدری ﷜ بیان کرتے ہیں کہ  نبی کریم ﷺ نےفرمایا:

«يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ, فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً فَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ, فَإِنْ كَانُوا فِي السُّنَّةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً, فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ سِلْمًا - وَفِي رِوَايَةٍ: سِنًّا -» ([1])

’’لوگوں کی امامت وہ  کروائےجو ان میں سے سب سے زیادہ  کتاب اللہ کو  جاننے والا ہے۔  اگر کتاب اللہ کا علم  رکھنے میں سب برابر ہیں تو ان میں سے وہ امامت کروائےجو سنت کو زیادہ جانتا ہے۔اگر   سنت(حدیث) کےعلم میں سب برابر ہیں تو  وہ  امامت کروائے جس نے ہجرت پہلےکی ہے ۔اگر  ہجرت کرنے  میں بھی سب برابر ہوں تو  پہلے مسلمان ہونے والا یا ان میں سے جو عمر کےاعتبار سے بڑا ہے ، وہ امامت کروائے۔‘‘

امامت کااصل اصول او ر قانون  یہی ہے جو اس حدیث میں بیان کیا  گیا ہے۔لیکن کبھی اس قاعدے سے ہٹ کر ،ایک اعلم (بڑے عالم)،اور اقرأ  لکتاب اللہ (بڑے قاری) کی موجودگی میں  اس سے کم علم والے کو بعض ضروریات ، بعض ظروف  اور بعض مقاصد کےپیش نظر  امامت کے لیے آگے کیاجاسکتاہے۔

حَدَّثَنِي أَبُو عَطِيَّةَ – مَوْلًى مِنَّا – قَالَ : كَانَ مَالِكُ بْنُ حُوَيْرِثٍ يَأْتِينَا إِلَى مُصَلَّانَا هَذَا، فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَقُلْنَا لَهُ : تَقَدَّمْ فَصَلِّهْ. فَقَالَ لَنَا : قَدِّمُوا رَجُلًا مِنْكُمْ يُصَلِّي بِكُمْ وَسَأُحَدِّثُكُمْ لِمَ لَا أُصَلِّي بِكُمْ ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ :

ابو عطیہ﷫ کہتے ہیں کہ  مالک ابن الحویرث ﷜ ہمارے  پاس آتے تھےاور ایک دفعہ  اقامت ہوئی تو ہم نے ان سے کہا کہ آپ صحابی رسول  ہیں۔ آپ آگے بڑھیے اور امامت کروائیے۔کہنے لگے کہ نہیں۔ تمہیں تم ہی میں سے کوئی امامت کروائے اور میں تمہیں بتاتا ہوں کہ میں تمہاری امامت کیوں نہیں کروارہا۔ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا ہے:

« مَنْ زَارَ قَوْمًا فَلَا يَؤُمَّهُمْ، وَلْيَؤُمَّهُمْ رَجُلٌ مِنْهُمْ» ([2])

’’جو آدمی کسی قوم کے پاس مہمان جائے، وہ ان کی امامت نہ کروائے، بلکہ  انہی میں سے کوئی بندہ ان کی امامت کروائے ۔‘‘

اس  کے بہت سے اسباب ہیں۔ مثال کے طور پر وہاں جو نمازی نماز پڑھتے ہیں تو ان کا مستقل امام ان کے حالات کو  اورمعاملات کو زیادہ بہتر سمجھتاہے۔ کیونکہ امام نےاپنی نما زمیں مقتدیوں کا بھی خیال رکھنا ہوتاہے کہ اس کو معلوم  ہوتا ہے اس کی اقتداء میں نما زپڑھنے والے کمزور ، مسافر یا مریض یا تھوڑے وقت کے لیے مسجد میں آسکنے والے لوگ ہیں۔ تو اس حساب سے امام جماعت کولمبایا چھوٹا کرتا ہے جب کہ باہرسے آنے والے کےلیے یہ اند ازہ ممکن نہیں  ہوتا۔

اسی طرح سے اگر مسافر کو امام بنادیا جائے گا تو وہ دورکعت نما زپڑھا کر  سلام پھیر دے گا جبکہ کچھ لوگ اگر ظہر کی نما زکی تیسری یا چوتھی رکعت میں شامل ہوتے ہیں۔ اصول یہ ہے کہ اگر کوئی بندہ چوتھی  رکعت میں بھی مل جاتاہے تو اس کو باجماعت نماز اداکرنےکا ثواب ملتا ہے۔ لیکن اگر مسافرامام کو آگےکردیا جائے گا تو وہ دو رکعت پڑھ کر سلام پھیر دے گا اور جو لوگ تیسری یا چوتھی رکعت میں شامل ہونے تھے، وہ  جماعت سے محروم ہوجائیں گے۔

اس کا یہ مطلب  ہرگز نہیں ہے کہ مسافر مقیم کی امامت نہیں کرواسکتا۔ کیونکہ نبی کریم ﷺجب مکہ حج کےلیے گئے تو آپﷺ ہی لوگوں کو  امامت کرواتے تھے، حالانکہ آپﷺ مسافر تھے اورجو مقیم لوگ  ہوتے، ان کو کہتے:

«يَا أَهْلَ الْبَلَدِ، صَلُّوا أَرْبَعًا فَإِنَّا قَوْمٌ سَفْرٌ» ([3])

’’جو مقیم ہیں، وہ اپنی نماز پوری کرلیں۔‘‘

یعنی مصالح اور مفاسد کے پیش نظر اس بات کافیصلہ کیا جائے گا کہ مصلحت اور بہتری کس چیز میں ہے؟ مسافر کو بھی امام بنایا  جاسکتاہے لیکن اگر مقیم امام ہی امامت کروائے  اگرچہ مسافرامام علم میں زیادہ ہی  کیوں نہ ہو، مقیم مقرر کردہ امام ہی امامت کروالے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

سیدنا سہل ابن سعد الساعدی﷜ کی روایت ہے کہ نبی ﷺ بنی عمرو ابن عوف کےدرمیان صلح کروانےکےلیے ان کی طرف گئے ۔اتنے میں نما زکا  وقت ہوگیا تو مؤذن نے ابوبکر ﷜ سے کہا کہ  رسول اللہ ﷺ موجود  نہیں ہیں تو آپ امامت کروائیں۔ سیدنا ابوبکر ﷜ نے امامت شروع کردی۔ اس دوران نبی کریم ﷺ تشریف لائے تو ابو بکر  ﷜ پیچھے ہٹنے لگے۔ نبی کریم ﷺ نے اشارہ کیا کہ   جماعت کروائیں لیکن ابو بکر﷜نے ہاتھ اٹھائے اور شکرانہ ادا کیا اور   پیچھے ہٹ گئے۔چنانچہ نبی ﷺ    بطور امام کھڑے ہوگئے  اور آپﷺ نے  جماعت کروائی۔بعد میں نبی ﷺ نےپوچھا  تو ابو بکر﷜ کہنے لگے:

  مَا كَانَ لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ([4])

’’ابن ابی قحافہ کے لیے یہ زیبا نہیں کہ  رسول اللہﷺ کے آگے  کھڑا ہوکر جماعت کروائے۔‘‘

یعنی دونوں طرح کی احادیث موجود ہیں۔ عبدالرحمن بن عوف ﷜ کے پیچھے نبیﷺ نے نمازپڑھی([5]) اور خود نبیﷺ نے اس کے بعد پھر کچھ نمازیں ابو بکر رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں  اداکیں۔اس بات کافیصلہ حالات کو دیکھ کر ماحول کو دیکھ کر اور مصالح اور مفاسدکو دیکھ کر کیا جائے گا ۔

__________________________________

([1])           مسلم (673)

([2])           أبو داود (596)

([3])           أبو داود (1229) وسندہ ضعیف.

([4])           البخاري (684)، مسلم (421)

([5])           مسلم (274)

 

  • الخميس PM 12:10
    2023-02-09
  • 676

تعلیقات

    = 7 + 1

    /500
    Powered by: GateGold