اعداد وشمار
مادہ
امامت کے حق دار
درس کا خلاصہ
امامت وہ کروائےجو ان میں سے سب سے زیادہ کتاب اللہ کو جاننے والا ہے۔ اگر کتاب اللہ کا علم رکھنے میں سب برابر ہوں تو ان میں سے وہ امامت کروائےجو سنت کو زیادہ جانتا ہے۔اگر سنت(حدیث) کےعلم میں سب برابر ہوں تو وہ امامت کروائے جس نے ہجرت پہلےکی ہے ۔اگر ہجرت کرنے میں بھی سب برابر ہوں تو پہلے مسلمان ہونے والا یا ان میں سے جو عمر کےاعتبار سے بڑا ہے ، وہ امامت کروائے۔
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
امامت کے حقدار
محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ
ابو مسعود بدریبیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نےفرمایا:
«يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ, فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً فَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ, فَإِنْ كَانُوا فِي السُّنَّةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً, فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ سِلْمًا - وَفِي رِوَايَةٍ: سِنًّا -» ([1])
’’لوگوں کی امامت وہ کروائےجو ان میں سے سب سے زیادہ کتاب اللہ کو جاننے والا ہے۔ اگر کتاب اللہ کا علم رکھنے میں سب برابر ہوں تو ان میں سے وہ امامت کروائےجو سنت کو زیادہ جانتا ہے۔اگر سنت(حدیث) کےعلم میں سب برابر ہوں تو وہ امامت کروائے جس نے ہجرت پہلےکی ہے ۔اگر ہجرت کرنے میں بھی سب برابر ہوں تو پہلے مسلمان ہونے والا یا ان میں سے جو عمر کےاعتبار سے بڑا ہے ، وہ امامت کروائے۔‘‘
یہ امامت کا عام اصول ہے۔ ایک ہے مقرر کردہ امیر، وہ قوم کا امام ہے اور وہی ان کی فرض نمازوں اور جنازوں کی امامت کروائےگا یا امیر جس کو مقرر کردے، وہ امامت کروائے گا۔ اگر ایسی کیفیت نہ ہو تو ان میں سے وہ بندہ جو قرآن کا سب سے بڑا عالم ہےیا وہ آدمی جو حدیث کو زیادہ جاننے والا ہے یا وہ آدمی جس نے ہجرت پہلے کی یا عمر میں بڑا ہےیا پہلے مسلمان ہوا ہے۔کوئی آدمی کسی دوسرے آدمی کی امامت اس کی سلطنت میں نہ کروائے او ر کوئی آدمی کسی دوسرےآدمی کے گھر میں اس کی عزت والی جگہ پر اس کی اجازت کے بغیر نہ بیٹھے۔
نبیﷺ نے یہ چار چیزیں بیان کی ہیں کہ کتاب اللہ کو پڑھنے سمجھنےوالا زیادہ حق رکھتا ہے، پھر سنت کو سمجھنےوالا ، پھر ہجرت پہلےکرنے والااور پھر پہلےاسلام قبول کرنےوالا۔یہ امامت کی ترتیب ہے اور یہ اس وقت جب ان میں سے کوئی بھی مقررکردہ امام نہ ہو۔مقرر امام کی موجودگی میں اس سے بڑا علم والا ، قرآن یا سنت کا علم جاننے والا آ جائے تب بھی مقرر کردہ امام کی اجازت سے وہ امامت کروائےگا، اس کی رضا مندی کے بغیر نہیں۔ اور یہ دیکھنا اس وقت ہے جب آپ نے امام مقرر کرناہے ۔
سیدنا عمرو ابن سلمہ ہیں کہ میرے والد گرامی نبی ﷺ کے پاس گئےتھے۔ انہوں نے واپس آکر کہا کہ میں تمہارے پاس رسول اللہ ﷺ کے پاس سے حق لایا ہوں۔ آپﷺ نےفرمایا ہے:
«فَإِذَا حَضَرَتْ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ أَحَدُكُمْ, وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا»، قَالَ: فَنَظَرُوا فَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَكْثَرَ قُرْآنًا مِنِّي, فَقَدَّمُونِي, وَأَنَا ابْنُ سِتٍّ أَوْ سَبْعِ سِنِينَ. ([2])
’’ جب نماز کا وقت ہوجائے تو تم میں سے کوئی بھی ایک آدمی اذان دے دے اور جو تمہاری امامت وہ کروائے جو تم میں سے قرآن سب سے زیادہ جانتاہے۔‘‘ تو انہوں نے دیکھا تو پورے قبیلے میں مجھ سے زیادہ قرآن جاننے والا کوئی نہیں تھا۔ انہوں نے مجھے آگےکردیا۔ اس وقت میں چھ یا سات سال کا تھا ۔
عمرو ابن سلمہ اپنے قبیلے کے امام مقرر ہوئے اور ان کی عمر چھ یا سات سال تھی اور وہ فرض نما زپڑھانے کے امام مقررہوئے، نفل نماز کے نہیں۔ سبب یہ تھا کہ ان کو زیادہ قرآن یاد تھا۔ یہ آتے جاتے قافلوں سے قرآن سیکھتے اور اس کے احکامات سمجھتے تھے۔ اس لیے ان کو قرآن کا زیادہ علم تھا ۔
یہ امام مقرر کرنے کا سادہ ساطریقہ ہے۔ امامت کاتعلق عمر کے ساتھ نہیں، علم کے ساتھ ہے۔ جس کے پاس زیادہ علم ہوگا، وہی امامت کروائے گا۔ کچھ لوگوں نے اپنی طرف سے کچھ شرائط عائد کی ہیں کہ سر بڑا ہو ، بیوی زیادہ خوبصورت ہو، وغیرہ،([3]) ان کا قرآن وحدیث سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔
___________________________
([2]) البخاري (4302)، وأبو داود (585، والنسائي (2/ 80 - 81) واللفظ للبخاري
([3]) ابن عابدین، رد المحتار على الدر المختار، ط: دار الفکر، الطبعة: الثانية، 1412هـ - 1992م، ج: 1، ص: 558.
-
الخميس PM 12:15
2023-02-09 - 671





