اعداد وشمار
مادہ
بڑے قاری کی موجودگی میں بڑے عالم کو امام بنانا
درس کا خلاصہ
امامت کا حق دار وہ ہے جو کتاب اللہ کو زیادہ پڑھا ہوا ہو۔ اس سے مراد صر ف قرآن اچھا پڑھنے والا نہیں، بلکہ قرآن کا زیادہ علم رکھنے والا ہے
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
بڑے قاری کی موجودگی میں بڑے عالم کو امام بنانا
محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ
سیدنا انس ابن مالک بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے ابی ابن کعب کوکہا :
إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ ‹لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الكِتَابِ› [البينة: 1] قَالَ: وَسَمَّانِي؟ قَالَ: «نَعَمْ» ([1])
’’اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تجھے سورۃ البینہ سناؤں۔‘‘ابی ابن کعب کہنے لگے: ’’کیا اللہ نے میرا نام لیا ہے ؟‘‘ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ہاں! اللہ تعالیٰ نے تیرا نام لےکر کہاہے ۔
سیدنا انس ابن مالک بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
«أَرْحَمُ أُمَّتِي بِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ، وَأَشَدُّهُمْ فِي أَمْرِ اللَّهِ عُمَرُ، وَأَصْدَقُهُمْ حَيَاءً عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، وَأَعْلَمُهُمْ بِالحَلَالِ وَالحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَأَفْرَضُهُمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَأَقْرَؤُهُمْ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ وَأَمِينُ هَذِهِ الأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الجَرَّاحِ» ([2])
’’میری امت میں میری امت پر سب سے زیادہ رحم کرنے والے ابوبکر ہیں اور اللہ رب العالمین کے احکام میں سب سے سخت عمر ہیں اور سب سے باحیاءعثمانہیں اور حلال وحرام کا سب سے زیادہ علم رکھنےوالے معاذ ابن جبلہیں اور سب سے زیادہ وراثت کے مسائل جاننے والے زید ابن ثابتہیں اور میری امت کے سب سے بڑے قاری ابی ابن کعب ہیں اور ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور میری امت کےامین ابو عبیدہ بن جراحہیں ۔
اس حدیث میں نبیﷺ نے ابی ابن کعب کو اقرا (سب سے بڑا قاری) قرار دیا ہے کہ میری امت میں سب سے زیادہ بڑا قاری ، اور یہاں قاری کا لفظ محض قرآن پڑھنے کےاعتبار سے ہے۔
جب نبیﷺ بیمار ہوگئے ۔
ام المؤمنین سیدہ عائشہ فرماتی ہیں کہ نبیﷺ جب مرض الموت میں تھے یعنی وہ بیماری جس کے بعد آپﷺ فوت ہوگئےتھے توآپﷺ نےحکم دیا:
«مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ» ([3])
’’ابو بکر کو کہو کہ لوگوں کی امامت کروائیں۔‘‘
سیدنا ابو بکر کو نبی ﷺ نے اپنےبعد امام مقرر کیا جبکہ سیدناابی ابن کعب سمیت دیگر صحابہ کرام بھی موجود تھے۔ ابوبکرچونکہ علم میں زیادہ تھے۔ کتاب اللہ کا اور سنت کا زیادہ علم تھا اور ہجرت میں یہ اقدم (قدیم ترین) تھے اور اسلام لانے میں بھی پہل انہوں نے کی تھی، اس لیے انہیں حکم دیا کہ لوگوں کی امامت کروائیں ۔جب یہ عذر پیش کیا گیا کہ ابوبکر بہت کمزور دل والےہیں، آپ ﷺ کی جگہ پرکھڑے ہوکر لوگوں کو جماعت نہیں کروا سکیں گے تو نبی ﷺ نے پھر یہی حکم دیا۔سیدہ عائشہ صدیقہ نے حفصہ سے کہا کہ آپ جاکر رسول اللہﷺ سے بات کرو کہ ان کی جگہ عمر ابن الخطاب کو کہہ دیں تو آپﷺ نے یہی حکم دہرایا اور فرمایا:
«إِنَّكُنَّ لَأَنْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ، مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ» ([4])
’’تم تو یوسف کی عورتوں کی طرح کی عورتیں ہو۔ ابو بکر کو کہو کہ وہ امامت کروائیں ۔‘‘
آپﷺ نےابو بکر کی موجودگی میں کسی کو امام نہیں بنایا۔
اللہ اور اللہ کا رسول اور مؤمن ابوبکر کے سوا باقی سب کاانکار کرتے ہیں کہ ان کی موجودگی میں کوئی اور امامت کروائے ۔ ( بخاری: 5666، مسلم: 2387)
ان روایا ت اور احادیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ قرآن مجید کو زیادہ پڑھنے والا ، قرآن مجید کا زیادہ بڑا قاری ہونے کے باوجود نبیﷺ نے ابی ابن کعب کے بجائے ابو بکر صدیق کو مصلئ امامت پر کھڑا کیا۔یہ اس بات کی دلیل ہے کہ امامت کا حق دار وہ ہے جو کتاب اللہ کو زیادہ پڑھا ہوا ہو۔ اس سے مراد صر ف قرآن اچھا پڑھنے والا نہیں، بلکہ قرآن کا زیادہ علم رکھنے والا ہے اورابوبکر قرآن کے علم میں سب صحابہ کرام سے بڑے عالم تھے ۔
________________________
([1]) البخاري (3809)، مسلم (799)
([3]) البخاري (664)، مسلم (418)
-
الخميس PM 12:22
2023-02-09 - 743





