اعداد وشمار

0
سافٹ ویر
14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
283
فتاوى
58
مقالات
188
خطبات

مادہ

بڑا عالم ہی بڑا قاری ہے

درس کا خلاصہ

نبیﷺ کےزمانے میں جو قرآن کا جتنا بڑا قاری ہوتا تھا، اتنا بڑا عالم بھی ہوتا تھا اوراس کے احکام اور عمل بھی جانتا ہوتا تھا ۔



  آڈیو فائل ڈاؤنلوڈ کریں


الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!

بڑا عالم ہی بڑا قاری ہے

محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ

سیدنا ابو مسعود بدری﷜ بیان کرتے ہیں کہ  نبی کریم ﷺ نےفرمایا:

«يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ, فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً فَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ, فَإِنْ كَانُوا فِي السُّنَّةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً, فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ سِلْمًا - وَفِي رِوَايَةٍ: سِنًّا -» ([1])

’’لوگوں کی امامت وہ  کروائےجو ان میں سے سب سے زیادہ  کتاب اللہ کو  جاننے والا ہے۔ اگر کتاب اللہ کا علم  رکھنے میں سب برابر ہیں تو ان میں سے وہ امامت کروائےجو سنت کو زیادہ جانتا ہے۔اگر سنت(حدیث) کےعلم میں سب برابر ہیں تو  وہ  امامت کروائے جس نے ہجرت پہلےکی ہے ۔اگر  ہجرت کرنے  میں بھی سب برابر ہوں تو  پہلے مسلمان ہونے والا یا ان میں سے جو عمر کےاعتبار سے بڑا ہے ، وہ امامت کروائے۔‘‘

اس حدیث سے قرآن مجید کو زیادہ پڑھنے والا یا قرآن مجید کو زیادہ زبانی یاد کرنے والایا قرآن مجید کو تجوید سے پڑھنےوالامراد نہیں ہے بلکہ اس سےقرآن کا زیادہ علم رکھنے والامراد ہے۔اس  اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ نبیﷺ  کے زمانے میں صحابہ کرام﷢ قرآن جب سیکھتے تھےتو اس کی آیات کا فہم بھی سیکھتے تھے۔

ابوعبدالرحمن سلمی﷫ کہتے ہیں کہ نبیﷺ کے صحابہ میں سے جو صحابہ ہمیں پڑھایا کرتے تھے انہوں نے  ہمیں  بتایا  کہ وہ رسول اللہﷺ سے دس  آیات سیکھتے تھے۔اس  کے بعد اگلی دس  آیات  کاآغاز نہیں کرتے تھے جب تک کہ یہ نہ جان لیتے کہ ان دس آیات میں کیا علم ہےاور کیا عمل ہے۔([2])

یعنی صحابہ کرام نے نبیﷺ سے قرآن کے صرف الفاظ ہی نہیں سیکھتے تھے، بلکہ ان الفاظ کے ساتھ ان کا معانی اور مفہوم  بھی سیکھتے تھے اور اس پر عمل کرنے  کی باتیں اور احکام ساراعلم سیکھتے تھے۔کہتے ہیں کہ ہم نے علم اور عمل دونوں چیزیں اکٹھی سیکھیں۔اس سے معلوم ہوتاہےکہ ان میں سے جو قرآن زیادہ پڑھا ہوا ہوتا تھا تو وہ قرآن کا زیادہ بڑا عالم بھی ہوتا تھا۔

ہمارے ہاں  تو آج کل  تقسیم ہوگئی ہے ۔حفاظ قرآن مجید کے الفاظ تو یاد کرلیتے ہیں لیکن ان کو پتہ نہیں ہوتاکہ  اس میں کیا ہےاور کیا نہیں  ۔اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ ہمارےہاں حفظِ قرآن کا جو طریقہ رائج ہے، وہ درست نہیں۔ بلکہ اس کے بھی اپنے نتائج اور ثمرات ہیں۔یہ بھی ہونا چاہیے۔ بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ نبیﷺ کےزمانے میں جو قرآن کا جتنا بڑا قاری ہوتا تھا، اتنا بڑا عالم بھی ہوتا تھا اوراس کے احکام اور عمل بھی جانتا ہوتا تھا ۔

سیدنا انس ابن مالک ﷜ کی روایت ہے کہ نبیﷺ  کے پاس  رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان آئے۔ انہوں نے یہ ظاہر کیا کہ یہ قبائل مسلمان ہوگئے ہیں اور انہوں نے بہانہ کرکے  کہا کہ ہماری مد د کے لیے ہمارے ساتھ کچھ افراد بھیجو۔نبی کریمﷺ  نے ستر صحابہ بھیجے۔ ان ستر صحابہ کو  ہم قراء کہا کرتے تھے۔وہ دن کے وقت لکڑیا ں کاٹتے اور  راتوں کو نمازیں پڑھتے۔ وہاں پہنچ کر ان قبائل والوں نے صحابہ سے دھوکہ کیا اور ان ستر صحابہ کو قتل کردیا۔نبی ﷺ نےان کی شہادت اطلاع پانےکےبعد ایک مہینہ پانچوں نمازوں کی آخری  رکعت میں رکوع کے بعد ہاتھ اٹھاکر ان لوگوں کے خلاف بددعا کی جنہوں نے  یہ دھوکہ کیا ۔نبی ﷺ رعل، ذکوان اور بنی لحیان کےخلاف بد دعا کرتے تھے ۔([3])

سیدنا حذیفہ ﷜ کہتے ہیں:

«يَا مَعْشَرَ القُرَّاءِ اسْتَقِيمُوا فَقَدْ سَبَقْتُمْ سَبْقًا بَعِيدًا، فَإِنْ أَخَذْتُمْ يَمِينًا وَشِمَالًا، لَقَدْ ضَلَلْتُمْ ضَلاَلًا بَعِيدًا»([4])

’’اے قراء کی جماعت! سیدھے رہو۔ تم بہت دور کی  سبقت لےجاچکے ہو۔ اگر تم دائیں بائیں ہوئے تو تم بہت دور کی گمراہی میں مبتلاہوجاؤ گے ۔‘‘

حذیفہ﷜ نے دراصل علماء کو خطاب کیا کہ علماء کا راہ راست سے ہٹنالوگوں کے گمراہ ہونے کا باعث بن جاتا ہے ۔

سیدنا عمر فاروق ﷜ کے بارے میں آتا ہےکہ آپ کی مجلس اور آپ کی مشاورت میں بیٹھنے والے لوگ قراء ہوتے تھےخواہ وہ عمر رسیدہ ہوں یا وہ نو جوان ہوں ۔([5])

قراء سے مراد علماء ہیں ۔

ان تمام  احادیث میں قاری کالفظ عالم  کے لیے استعمال ہوا ہے۔ اس لحاظ سے امامت کا سب سے بڑا حق دار کتاب اللہ کو  جاننے والا ہے۔  اگر کتاب اللہ کا علم  رکھنے میں سب برابر ہیں تو ان میں سے وہ امامت کروائےجو سنت کو زیادہ جانتا ہے۔ اگر سنت(حدیث) کےعلم میں سب برابر ہیں تو  وہ  امامت کروائے جس نے ہجرت پہلےکی ہے ۔ اگر ہجرت کرنے  میں بھی سب برابر ہوں تو  پہلے مسلمان ہونے والا یا ان میں سے جو عمر کےاعتبار سے بڑا ہے، وہ امامت کروائے گا۔

__________________________

([1])           مسلم (673)

([2])           مسند أحمد (23482)

([3])           البخاري (3064)

([4])           البخاري (7282)

([5])           البخاري (4642)

 

  • الخميس PM 12:26
    2023-02-09
  • 737

تعلیقات

    = 6 + 7

    /500
    Powered by: GateGold