اعداد وشمار
مادہ
امام راتب کا حق امامت
درس کا خلاصہ
جو شخص امامت کے لیے مقرر ہو امامت کا وہی حقدار ہے
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
امام راتب کا حق امامت
محمد رفیق طاہر وفقہ اللہ
سیدنا ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا:
«إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ, فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا, وَلَا تُكَبِّرُوا حَتَّى يُكَبِّرَ, وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا, ... وَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا, وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعِينَ» ([1])
’’امام اس لیے بنایا جاتا ہےکہ اس کی اقتداء کی جائے ۔ جب امام اللہ اکبر کہہ لے تو تم بھی فوری اللہ اکبر کہو۔ جب اما م رکوع میں جائے تو اس کے فوراً بعد تم بھی رکوع میں جاؤ۔‘‘ اس کے آخر میں یہ ہے کہ ’’جب امام کھڑا ہوکر نماز پڑھائے تو تم کھڑےہوکر نماز پڑھو اورجب وہ بیٹھ کرنما ز پڑھے تو تم سبھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔‘‘
ام المؤ منین سیدہ عائشہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نےجب مرض الموت میں ابوبکر صدیق کو امام مقرر کیا تھا تو اس دوران نبیﷺ تشریف لائے اور ابو بکرکے بائیں جانب بیٹھ گئے ۔ اب رسول اللہﷺ بیٹھ کر جماعت کروا رہے ہیں اور ابو بکران کےپہلو میں ان کے دائیں جانب ان کی اقتداء کر رہے ہیں اورلوگ ، ابوبکر کی اقتداء کررہے ہیں ۔([2])
یہ تیسرا طریقہ ہے کہ امام بیٹھ کر جماعت کروائے اور اس کے ساتھ اس کی دائیں جانب نائب امام کھڑا ہوجائے اور لوگ اس کی اقتداء کریں۔
سیدنا سہل ابن سعد ساعدی کی روایت ہے کہ نبی ﷺ بنی عمرو ابن عوف کی طرف ان کےدرمیان صلح کروانےکےلیے گئے ۔ نما زکا وقت ہوگیا تو مؤذن نے ابوبکر کو کہا کہ رسول اللہ ﷺ موجود نہیں ہیں تو آپ امامت کروائیں۔ ابوبکر نے امامت کروانا شروع کردی۔اس دوران نبیﷺ تشریف لے آئے تو ابو بکر پیچھے ہٹ گئے۔ نبی کریم ﷺنے اشارہ کیا کہ جماعت کروائیں لیکن ابو بکرنے ہاتھ اٹھائے اور شکرانہ ادا کیا اور پیچھے ہٹ گئے۔چنانچہ نبی ﷺ بطور امام کھڑے ہوگئے اور آپﷺ نے جماعت کروائی۔ بعد میں نبی ﷺ نےپوچھا تو فرمانےلگے:
مَا كَانَ لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ([3])
’’ابن ابی قحافہ کے لیے یہ زیبا نہیں کہ رسول اللہﷺ کے آگے کھڑا ہوکر جماعت کروائے۔‘‘
ان احادیث کو سامنےرکھتے ہوئےیہ بات سمجھ آتی ہے کہ جو امام مقرر کردہ ہے ، اس کی غیر موجودگی میں اگر کوئی دوسرا امامت کےلیے مصلے پر آبھی جائے تو وہ پیچھے ہٹ سکتاہےاورجو اصل امام ہے یا عالم امام ہے، وہ آگے آ جائے اور جماعت کروائے۔اس سے مقررکردہ امام یا عالم امام کا مقام ومرتبہ اور قدر و منزلت واضح ہوتی ہے کہ اس کے تاخیر سےآنےکے باوجود امامت کا وہی حقدار ہے ۔اس لیے اگر امام صاحب کبھی دو چار منٹ لیٹ ہوجائے اور پتہ ہے کہ وہ آ رہے ہیں تو ان کے لیےرکا جائے اور انتظار کرلیاجائے ۔
امامت کروانےکے تین طریقے ہیں:
ایک یہ کہ امام بھی کھڑا ہواور مقتدی بھی کھڑے ہوں۔
دوسرا یہ کہ امام بیٹھا ہو تو مقتدی بھی بیٹھے ہوں۔
تیسرا طریقہ یہ ہے کہ امام اگر بیٹھ کر امامت کرواتا ہے تواس کےساتھ نائب امام کھڑا ہوجائے۔ وہ امام کی اقتداء کرےاور مقتدی نائب امام کی اقتداء کرتے ہوئے کھڑے ہوکر نماز اداکریں گے۔
_______________________________
([1]) أبو داود (603)، البخاري (734)، ومسلم (417)
([2]) البخاري (713)، ومسلم (418)
([3]) البخاري (684)، مسلم (421)
-
الخميس PM 12:34
2023-02-09 - 684





