اعداد وشمار
مادہ
امام كا انتظار
درس کا خلاصہ
امام حالات کو دیکھتے ہوئے نماز وقت سے ایک دو منٹ پہلے اور کبھی ایک دو منٹ تاخیر کرسکتاہے ۔
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
امام كا انتظار
محمد رفیق طاہر وفقہ اللہ
سیدہ عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ ایک بار نبی کریم ﷺ نے عشاء کی نماز کو کافی لیٹ کردیا حتیٰ کہ رات کا جو عام حصہ ہے ، وہ کافی سارا گزرگیا اورجو لوگ مسجد میں بیٹھے تھے، وہ بیٹھے بیٹھے سو گئے۔ پھر نبیﷺ نکلےاور آپﷺ نے انہیں جماعت کروائی اور کہا:
«إِنَّهُ لَوَقْتُهَا لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي»([1])
’’ اگرمیں اپنی امت پر مشقت نہ سمجھوں تو عشاء کا یہی وقت ہے۔‘‘ (رات کا ایک تہائی حصہ گزر جانےکے بعد )
سیدنا انس ابن مالک کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب عشاءکی نماز کاانتظار کرتے رہتے حتیٰ کہ بیٹھے بیٹھے ان کے سر(نیندکی وجہ سے) جھک جاتے ۔پھر وہ نماز پڑھتے اور وہ وضو نہیں کرتے تھے۔([2])
اس حدیث میں سیدنا انس ابن مالک یہ بتانا چاہ رہے ہیں کہ اگر بندہ بیٹھے بیٹھے سو جائے تو اس کا وضو قائم رہتاہے، اسے دوبارہ وضو کرنےکی حاجت نہیں ہے۔
نبی ﷺ کاطریقہ موجود ہے کہ سیدنا بلال فجر کی نماز کےلیےنبیﷺ کو بلانےجاتے تھے۔ اگر آپﷺ نے سنتیں نہ پڑھی ہوتی تو پہلے سنتیں ادا کرتے، پھر فجر کی نماز پڑھاتے تھے۔([3])
نبی ﷺ کا یہ بھی معمول تھا:
إِذَا رَآهُمْ اجْتَمَعُوا عَجَّلَ, وَإِذَا رَآهُمْ أَبْطَئُوا أَخَّرَ. ([4])
’’اگر دیکھتے کہ تمام نمازی پہنچ گئے ہیں تو نماز پڑھانے میں جلدی کرتے اور جب دیکھتے کہ ابھی تمام نمازی نہیں آئے تو تاخیر کرتے۔‘‘
ان تمام احادیث سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ امام حالات کو دیکھتے ہوئے وقت سے ایک دو منٹ پہلے اور کبھی ایک دو منٹ تاخیر کرسکتاہے ۔ مثلاً اگر اما م دیکھتاہے کہ نماز کاوقت ہوگیا ہے اورٹونٹیوں پر وضو کرنے والوں کارش لگا ہے تو امام دو چار منٹ تاخیر کرسکتا ہے۔ آخر وہ بھی نماز پڑھنے کی تیاری کررہے ہیں۔اور جماعت کامعنیٰ بھی یہ ہوتاہے کہ تمام نمازی اکٹھے مل کر نماز ادا کریں ۔لہٰذا جو وضو کر رہے ہیں تو یہ امام صاحب کااختیارہے کہ وہ دو چار منٹ ان کاانتظار کرلے۔
اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر امام کچھ لیٹ ہوجائے تو مقتدی امام کاانتظار کریں حتیٰ کہ امام صاحب کا پتہ کریں کہ امام صاحب ابھی تک پہنچے کیوں نہیں؟ بلال مؤذن تھے۔ نماز کاوقت ہوجاتا اور آپﷺ تشریف نہ لاتے تو بلانےکےلیے چلے جاتے تھے۔([5])اتنا تو امام کا حق ہے کہ اس کے انتظار کےلیے چار ، پانچ منٹ رکا جائے۔
________________________
([2]) أبو داود (200)، والدارقطني (1/ 131/3) وأصلہ في مسلم (376)
([4]) البخاري (560)، ومسلم (646)، واللفظ للبخاري.
-
الخميس PM 01:59
2023-02-09 - 659





