اعداد وشمار

0
سافٹ ویر
14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
283
فتاوى
58
مقالات
188
خطبات

مادہ

امام کو جس حال میں پاؤ، مل جاؤ

درس کا خلاصہ

اطمینان اور سکون کے ساتھ مسجد میں پہنچنا ہے اور پھر صف میں پہنچنے کے بعد وقت ضائع نہیں کرنا، بلکہ فوراً نمازکاآغاز کرناہے اور امام جس حال میں ہے ، اسی حالت میں اس کے ساتھ مل جانا ہے۔



  آڈیو فائل ڈاؤنلوڈ کریں


الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!

امام کو جس حال میں پاؤ، مل جاؤ

محمد رفیق طاہر غفر اللہ لہ

سیدنا علی ابن ابی طالب ﷜ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ الصَّلَاةَ وَالْإِمَامُ عَلَى حَالٍ, فَلْيَصْنَعْ كَمَا يَصْنَعُ الْإِمَامُ» ([1])

’’ جب تم سے کوئی آدمی  نماز ادا کرنےکےلیے آئے اور امام کسی بھی حالت  میں ہو   تو وہ ویسے ہی کرےجیسے امام کررہا ہے۔‘‘

اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ اگر امام  رکوع میں ہےتو لیٹ آنےوالا نمازی  انتظار کرتا ہے کہ امام رکوع سے اٹھ جائے، سجدے کر لے، اور  دوسری رکعت یا تشہد میں چلاجائےتو پھر میں جماعت میں  شامل ہوں۔یہ نبیﷺ کی حکم عدولی ہے  کہ نبیﷺ نے فرمایاہے کہ  امام کو جس حال میں پاؤ، مل جاؤ اور جیسے وہ کر رہا ہے، ویسے کرو ۔

بسا اوقات  یہ بھی ہوتا ہے  کہ امام  تکبیر تحریمہ کہہ کر نماز شروع کرچکا  ہوتا ہے اور بعد میں آنےوالاکہتا ہےکہ کوئی بات نہیں  اما م ابھی قیام میں ہی ہے، مجھے مل رکعت جائے گی اور وہ یہ سوچ کر کھڑا رہتاہے ۔اور کچھ ایسے ہوتے ہیں  کہ  تکبیر تحریمہ کےوقت  پہلی صف میں کھڑےہونے کے باوجودتکبیر اولیٰ میں شامل نہیں ہوتے او راپنےآپ کو سیٹ کرتے رہتے ہیں حتیٰ کہ امام سور ہ فاتحہ مکمل کرنےوالا ہوتا ہے۔ پھر یہ نماز شروع کرتے ہیں ۔

سیدنا ابو بکرہ﷜کی روایت ہے کہ وہ نبی ﷺ کی اقتداء میں نماز  پڑھنےکے لیے آئے۔ جب مسجد پہنچے تو نبیﷺ رکوع کی حالت میں تھے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ جماعت رکوع تک پہنچ چکی ہے تو انہوں نے پیچھے سے  ہی رکوع  کر لیا اور  رکوع کی حالت میں صف کے اند ر جاکر شامل ہوئے۔ نبی کریم ﷺ کو جب نماز کے بعد علم ہوا تو  ان سے کہا:

«زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا، وَلَا تَعُدْ» ([2])

’’اللہ تیری حرص زیادہ کرے   لیکن دوبارہ ایسا کام نہیں کرنا۔‘‘

 بلکہ صف میں پہنچنے کے بعد رکوع کرناہے ۔

سیدنا ابوہریرہ ﷜ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے  فرمایا:

«إِذَا سَمِعْتُمْ الْإِقَامَةَ فَامْشُوا إِلَى الصَّلَاةِ, وَعَلَيْكُمْ السَّكِينَةُ وَالْوَقَارُ, وَلَا تُسْرِعُوا, فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا, وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا» ([3])

’’ اگر تم اقامت کی آواز بھی سنو تو بھاگنا نہیں ہے، بلکہ نما زکی طرف سکون اور وقار کے ساتھ چل کرآؤ اور جلد بازی نہ کرو ۔ جو نماز امام کے ساتھ پالیتے ہو، وہ امام کے ساتھ ادا کرو۔ اگر کوئی رکعت رہ گئی ہے تو بعد میں پوری کرلو۔‘‘

اس لیے اطمینان اور سکون کے ساتھ مسجد میں پہنچنا ہے اور پھر صف میں پہنچنے کے بعد وقت ضائع نہیں کرنا، بلکہ فوراً نمازکاآغاز کرناہے اور امام جس حال میں ہے ، اسی حالت میں اس کے ساتھ مل جانا ہے۔

___________________________

([1])           الترمذي (591)

([2])           البخاري (783)، أبو داود (684)

([3])           البخاري (636)، ومسلم (602)

  • الخميس PM 02:08
    2023-02-09
  • 737

تعلیقات

    = 9 + 5

    /500
    Powered by: GateGold