اعداد وشمار
مادہ
بچوں کی صف
درس کا خلاصہ
امام کے قریب پہلی صف میں بالترتیب بڑے اور سمجھدارلوگ کھڑے ہوں اور جو چھوٹے ہیں وہ آخری صف میں یا صف کے آخر میں کھڑے ہوں ۔
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
بچوں کی صف
محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ
سیدنا ابو مسعود بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
«لِيَلِنِي مِنْكُمْ أُولُو الْأَحْلَامِ وَالنُّهَى ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ» ([1])
’’تم میں سے ذی شعور اورسمجھدار میرے قریب کھڑے ہوں۔ پھر وہ، جو ان کے بعد ہیں اور پھر وہ، جو ان کے بعد ہیں۔‘‘
اس سے معلوم ہوتاہے کہ امام کے قریب پہلی صف میں بڑے اور سمجھدارلوگ کھڑے ہوں بالترتیب اور جو چھوٹے ہیں وہ آخری صف میں یا صف کے آخر میں کھڑے ہوں ۔نبی ﷺ نے صف بندی کی یہ ترتیب سمجھائی ہے۔ بسا اوقات بچے بھی بڑے سمجھدار ہوتے ہیں لیکن صف میں ان کامقام بڑوں سے پیچھے ہی ہے ۔
سیدنا عبداللہ ابن عباس فرماتےہیں کہ میں نبیﷺ کی نمازکااختتام تکبیر کے ساتھ پہچانتاتھا ۔([2])
نبیﷺ جب سلام پھیرتے اور اس کے بعد جب اونچی آوازمیں اللہ اکبر کہتےاور صحابہ کرام بھی سلام پھیر کر اللہ اکبرکہتےتو پھر مجھےپتہ چلتا کہ نمازکااختتام ہوگیا ہے۔
سیدنا عبداللہ ابن عباس تین یا چار ہجری میں پیدا ہوئے تھے، اس لیےعہدِ رسالت میں ان کی عمر کم تھی۔ یعنی بچے تھے۔لیکن کم عمر ہونے کے باوجود اللہ نے انہیں قرآن کا بہت علم دیاتھا ۔حبر الامہ (امت کے عالم)ان کا لقب ہے۔ اس کے باوجود نماز کےلیے پچھلی صفوں میں کھڑےہوتے ہیں۔ اس کا پتہ اس بات سے چلتا ہے کہ نبیﷺ کےسلام پھیرنے کی آواز بھی ان تک نہیں پہنچتی تھی ۔
صفوں کی ترتیب ایسی ہونی چاہیےکہ امام کے قریب پہلی صف میں بالترتیب بڑے اور سمجھدارلوگ کھڑے ہوں اور جو چھوٹے ہیں وہ آخری صف میں یا صف کے آخر میں کھڑے ہوں ۔
اگر صف بندی کے وقت پہلی صف میں ہی نمازی پورے نہ ہوں اور بچے بھی مسجد میں موجود ہوں تو کچھ لوگ ایسے موقع پر بھی بچوں کو دوسری صف میں کھڑا کردیتے ہیں، حالانکہ اگلی صف میں جگہ ہوتی ہے۔ یہ طریقہ بھی غلط ہے۔ اگر اگلی صف میں جگہ موجود ہے تو پھر بچے کو پہلی صف میں کھڑا کیاجائے گا حتیٰ کہ اگر امام کے پیچھے ایک دو ہی بڑے نمازی ہیں اور باقی بچے ہیں تو بچے ان کے ساتھ ہی کھڑے ہوجائیں گے۔
سیدنا عبداللہ ابن عباس کہتے ہیں کہ میں نےنبیﷺ کےساتھ ایک رات نماز پڑھی تو میں نبیﷺ کےبائیں جانب کھڑا ہوگیا۔ نبی کریمﷺ نے میرا کان پکڑا اور اپنے پیچھے سے گھما کر دائیں جانب لا کھڑا کیا ۔([3])
یعنی امام کےساتھ بچہ ایک اکیلا مقتدی ہے تو وہ امام کےساتھ کھڑا ہوگا۔ اور اگر بچے کے ساتھ کوئی بڑا بھی ہےتو ایک ہی صف میں امام کے پیچھے کھڑے ہوجائیں گے ۔
سیدنا انس ابن مالک فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی تو میں اور ایک اوربچہ نبی کریمﷺ کےپیچھے کھڑے ہوئے اور میری والدہ ام سلیم ہمارےپیچھےکھڑی تھی۔([4])
یہ گھر میں نفل نماز تھی۔ کل تین مقتدی تھے۔ دو مرد اور ایک عورت۔ اس سے معلوم ہوتاہے کہ عورت اگر اکیلی بھی ہو تو مردوں کے برابر نماز باجماعت میں کھڑی نہیں ہوگی ۔مثلاً اگر دونوں میاں بیوی نماز باجماعت پڑھنا چاہیں تو مرد آگے کھڑا ہوگا اور بیوی اس کےپیچھےکھڑی ہوگی ۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر پہلی صف میں جگہ ہو تو بچے پہلی صف میں بھی کھڑے ہوسکتےہیں، لیکن عورتیں پیچھے ہی کھڑی ہوں گی۔ ان کی صف پیچھے ہی رہے گی ۔
___________________________
([4]) البخاري (871)، مسلم (658)
-
الخميس PM 02:17
2023-02-09 - 685





