اعداد وشمار
مادہ
پہلی صف کی فضیلت
درس کا خلاصہ
پہلی صف میں کھڑے ہو کر نماز ادا کرنے کی فضیلتیں
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
پہلی صف کی فضیلت
محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت ہےکہ نبیﷺ نے دیکھا کہ لوگ پیچھے پیچھے ہٹتے ہیں تو آپﷺ نےفرمایا:
" تَقَدَّمُوا فَائْتَمُّوا بِي، وَلْيَأْتَمَّ بِكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ، لَا يَزَالُ قَوْمٌ يَتَأَخَّرُونَ حَتَّى يُؤَخِّرَهُمُ اللَّهُ ".
آگے بڑھو اور میری اتباع کرو اورجو تمہارے بعد ہے وہ تمہاری اتباع کرے اور فرمایا لوگ پیچھے ہٹتے رہیں گے تو اللہ تعالیٰ بھی انہیں پیچھے کردے گا ۔
صحیح مسلم:438
اس سے معلوم ہوتاہے کہ اگر بندہ بروقت مسجد میں پہنچے تو وہ پہلی صف چھوڑکر پچھلی صفوں پر بیٹھنےکو ترجیح نہ دے بلکہ اگلی صف کو اختیا ر کرے ۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہےفرماتےہیں کہ نبیﷺ نےفرمایا:
" خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُهَا، وَشَرُّهَا آخِرُهَا. وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ آخِرُهَا، وَشَرُّهَا أَوَّلُهَا ".
مردوں کی بہترین صفیں وہ ہیں جو آگے والی ہیں اور عورتوں کی سب سے بہتر صفیں آخری صفیں ہیں ۔اور مردوں کی آخری صفیں بری صفیں ہیں اور عورتوں کی بری صفیں اگلی صفیں ہیں ۔
صحیح مسلم :440
تو مردوں کو خیر کی طرف اگلی صفوں کی طرف آنا چاہیے کوشش کرکے آگے آنا چاہیے ۔
سیدنا براء ابن عازب رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ نبیﷺ یہ فرمایا کرتے تھے :
" إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصُّفُوفِ الْأُوَلِ ".
اللہ اور اس کے فرشتے پہلی صفوں پر درود بھیجتے ہیں
سنن ابی داؤد: 664
درود بھیجنے کا معانیٰ رحمت اورمغفرت کی دعا کرنا ۔اور اللہ کا درود بھیجنا ان پر اپنی رحمت اور مغفرت نازل کرناتو پہلی صفوں کے لیے یہ فضلیت ہے ۔
سیدنا انس ابن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت ہے فرماتے ہیں نبیﷺ کا فرمان ہے:
" أَتِمُّوا الصَّفَّ الْأَوَّلَ، ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ، وَإِنْ كَانَ نَقْصٌ فَلْيَكُنْ فِي الصَّفِّ الْمُؤَخَّرِ ".
صفیں پوری کرو پہلےاگلی پھر اس کے بعد والی اور پھر اس کے بعد والی ،جو کمی ہووہ سب سےآخر والی صف کےاند رہو ۔
سنن نسائی:818
ایک تو یہ کہ پہلی صفیں اللہ رب العالمین اور فرشتوں کےدرود کاباعث ہے ،اور دوسری بات یہ ہے کہ نبی ﷺ نے پہلی صف کو بہتر کہا اور آگے بڑھ کر اپنی اقتداء کرنے کاحکم دیا کہ اگلی صف میں شامل ہوں اور امام کو دیکھ کر اس کی اقتداء کریں ۔پہلی صف والے امام کو دیکھ کر اما م کی اقتداء کریں او ر پچھلی صف والے ، اگلی صف والوں کی حرکت سے امام کی اقتداء کااندازہ کریں کہ امام کی ایک رکن سے دوسرے رکن میں منتقل ہونے کی حرکت اور تکبیر کہنےکی آواز دونوں ختم ہوں تو مقتدی کی حرکت شروع ہو اور امام کی ایک رکن سے دوسرےرکن جانےکی حرکت اگلی صف کےمقتدی نوٹ کر سکتے ہیں ۔
_____________________
پہلی صف کی فضیلت2
سیدناابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الأَوَّلِ، ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلَّا أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ لاَسْتَهَمُوا» ([1])
’’ اگر لوگوں معلوم ہوجائےکہ اگلی صف میں کیا ( اجر و ثواب)ہے تو پھر قرعہ اندازی شروع ہوجائے ۔‘‘
سیدنا ابی ابن کعب کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں ایک دن فجر کی نماز پڑھائی اور پوچھا: فلاں موجود ہے؟ فلاں موجودہے؟ فلاں موجود ہے؟ نام لےلے کر آپﷺ نے حاضری لگائی تو وہ لوگ جن کے نام لیے، وہ غیر حاضر تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا:
«إِنَّ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ أَثْقَلُ الصَّلَوَاتِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ، وَلَوْ تَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لَأَتَيْتُمُوهُمَا، وَلَوْ حَبْوًا عَلَى الرُّكَبِ وَإِنَّ الصَّفَّ الْأَوَّلَ عَلَى مِثْلِ صَفِّ الْمَلَائِكَةِ وَلَوْ عَلِمْتُمْ مَا فَضِيلَتُهُ لَابْتَدَرْتُمُوهُ» ([2])
’’یہ دو نمازیں منافقین پر بڑی بوجھل نمازیں ہیں۔ اگر تمہیں پتہ چل جائے کہ ان دو نمازوں ( عشاء اور فجر) میں کیا اجر ہے تو تم ضرور یہ نمازیں اداکرنےکےلیے آؤ گے، خوا ہ تمہیں گھٹنے کےبل ہی کیوں نہ آنا پڑے۔ اور فرمایا کہ پہلی صف فرشتوں کی صف کی طرح ہے اور اگر تمہیں اس کی فضلیت کا پتہ چل جائے تو تم ایک دوسرے سے آگے بڑھ کر پہلی صف میں شامل ہو نے کی کوشش کرو۔‘‘
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
«لَا يَزَالُ قَوْمٌ يَتَأَخَّرُونَ عَنِ الصَّفِّ الْأَوَّلِ حَتَّى يُؤَخِّرَهُمُ اللَّهُ فِي النَّارِ» ([3])
’’ لوگ پہلی صف سے پیچھےہوتےرہیں گے کہ حتیٰ کہ اللہ انہیں پیچھے آگ میں دھکیل دے گا ۔‘‘
سیدنا جابر ابن سمرہ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ جماعت کروانےکےلیے نکلے توآپﷺ نے فرمایا:
«أَلَا تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهِمْ؟» قَالُوا: وَكَيْفَ تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهِمْ؟ قَالَ: «يُتِمُّونَ الصَّفَّ الْأَوَّلَ، ثُمَّ يَتَرَاصُّونَ فِي الصَّفِّ» ([4])
’’ تم ایسے صفیں کیوں نہیں بناتے جیسے فرشتے صفیں بناتے ہیں؟‘‘ لوگوں نے کہا کہ فرشتے اللہ کےپاس کیسے صفیں بناتے ہیں؟ تو آپﷺ نے فرمایا: ’’وہ پہلےپہلی صف کو پورا کرتے ہیں اور صف میں ایک دوسرے کے ساتھ اچھی طرح جڑ کرکھڑے ہوتے ہیں ۔‘‘
سیدنا عرباض بن ساریہ کہتے ہیں کہ رسو ل اللہﷺ پہلی صف والوں کےلیے تین مرتبہ دعا کرتےتھے اور جو دوسری صف والے ہوتے ، ان کے لیے ایک مرتبہ دعا کرتے ۔ ([5])
سیدنا انس ابن مالک بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
«أَتِمُّوا الصَّفَّ الْأَوَّلَ ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ، وَإِنْ كَانَ نَقْصٌ فَلْيَكُنْ فِي الصَّفِّ الْمُؤَخَّرِ» ([6])
’’ پہلےاگلی صفیں پوری کرو پھر اس کے بعد والی اور پھر اس کے بعد والی، جو کمی ہووہ سب سےآخر والی صف کےاند رہو ۔‘‘
_______________________
([1]) البخاري (615)، مسلم (437)
-
الخميس PM 02:28
2023-02-09 - 596





