اعداد وشمار

0
سافٹ ویر
14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
283
فتاوى
58
مقالات
188
خطبات

مادہ

اِشراق، چاشت اور اوّابین کی نماز

درس کا خلاصہ

سورج کے طلوع ہونے کے پندرہ منٹ بعد اشراق ، اور اس کے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کے بعد نماز ضحیٰ اور پھر اس کے بعد جو ظہر سے پہلے پہلے تک ادا کی جائے وہ اوّابین کہلائے گی ۔



  آڈیو فائل ڈاؤنلوڈ کریں


الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!

اِشراق، چاشت اور اوّابین کی نماز

محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ

سورج طلوع ہونےسے ایک نیزہ بلند ہونے  تک تقریباً پندرہ منٹ بنتے ہیں جیسا کہ نمازوں کے اوقات بتاتے ہوئے اس کی وضاحت کی گئی تھی کہ سورج کے افق سے نمودار ہونے سے اس کے مکمل نکلنے تک دو منٹ اور پینتیس سکینڈ لگتے ہیں  اور ایک نیزہ کے برابر اونچا ہونے  میں مزید بارہ منٹ لگتے ہیں اور یہ کل چودہ منٹ اور پینتیس سکینڈ بنتے ہیں۔ یعنی تقریباً پندرہ منٹ سمجھ لیں   کہ طلوع شمس  سے پندرہ منٹ بعد  تک نماز  پڑھنا منع ہے۔ اس کے بعد نماز  پڑھی جاسکتی ہے۔ نماز کی اجازت شروع ہونے سے لے کر نماز کا ممنوعہ وقت   آنے تک یعنی جب سورج عین سر کے اوپر ہوجاتاہے  تو ان  دو  ممنوعہ اوقا ت  کے درمیان ایک نماز پڑھی جاتی ہے ۔سورج نکلنے کے بعد جلد ہی اس کو پڑھ لیں تو اس کو اشراق کی نماز کہتے ہیں۔ جب سورج تھو ڑا سا بلند ہوجائے اور اچھی طرح چمکنے لگے  اور اس کی  تمازت، گرمیوں کے موسم میں محسوس ہونے لگے   تو یہ صلاۃ الضحیٰ یعنی چاشت کی نماز کا وقت ہے ۔ اور جب تھوڑی  سی مزید تاخیر ہو جائے اور زمین تپ جائے  اور پاؤں  گرمی کی وجہ  سے جلنے لگے،(گرمیوں  میں ساڑھے دس کے بعد ایسا وقت  ہوتا  ہے جب زمین تپ جاتی ہے اور زمین پر پاؤں نہیں لگتا) اس   وقت کے اعتبار  سے اس کو اوّابین کہتے ہیں۔اس وقت سب لوگ اپنے اپنے کام کاج میں لگ چکے ہوتے ہیں تواس وقت اوّاب لوگ ( اللہ کی طرف رجوع کرنےوالے) ہی  نماز پڑھتے ہیں ۔

سیدہ عائشہ صدیقہ ﷞  فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ چاشت کی نماز  چار رکعت ادا کرتے تھے  اور اللہ چاہتا تو زیادہ  بھی پڑھ لیتے تھے۔([1])

سیدہ عائشہ ﷞ سے پوچھا گیا کہ کیا رسول اللہ ﷺ چاشت کی نما ز باقاعدگی کے  ساتھ پڑھا  کرتے تھے؟فرماتی ہیں کہ نہیں۔کبھی سفر سے آتے  تو آپﷺ چاشت کی نماز ادا کیا کرتے تھے  ۔([2])

سیدہ عائشہ صدیقہ﷞ فرماتی ہیں: میں نے نبیﷺ کو کبھی چاشت کی نمازپڑھتے دیکھا نہیں ہے۔ لیکن میں یہ نما زادا کیا کرتی تھی۔ نبی ﷺ  ایک نیکی کا کام کرنا چاہتے  تھے، پھر بھی چھوڑ دیتے تھے۔ ڈرتے  تھےکہ میں نے کیا تو لوگ بھی اس کو دیکھ کر دوام اختیار کرلیں گے۔ پھر کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ نماز ان پر فرض ہوجائے ۔([3])

سیدنا زید ابن ارقم  ﷜ بیان کرتے ہیں کہ  رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ حِينَ تَرْمَضُ الْفِصَالُ» ([4])

’’ اوّابین کی نما ز اس وقت ہے جب اونٹنی کے دودھ پیتے بچے کے پاؤں(تپش کی وجہ سے) جلنے لگیں ۔‘‘

یعنی سورج کے طلوع ہونے کے پندرہ منٹ بعد اشراق ، اور اس کے  تقریباً  ڈیڑھ گھنٹے کے بعد نماز ضحیٰ اور پھر اس کے بعد جو ظہر سے پہلے پہلے تک ادا کی جائے وہ اوّابین کہلائے گی ۔بعض لوگ  سمجھتے ہیں کہ اوّابین  مغرب کے بعد کی نماز ہے، جبکہ نبیﷺ کے فرمان کے مطابق نماز اوّابین کاوقت تب ہوتا ہے جب اونٹنی کے دودھ پیتے بچے کے پاؤں(تپش کی وجہ سے) جلنے لگیں ۔

_______________________________

([1])           مسلم (719) (79)

([2])           مسلم (717)

([3])           البخاري (1128)، مسلم (718)

([4])           مسلم (748)

  • الخميس PM 02:32
    2023-02-09
  • 1462

تعلیقات

    = 9 + 1

    /500
    Powered by: GateGold