اعداد وشمار
مادہ
کس کافر سے براءت فرض ہے؟
سوال
اس بات کی وضاحت کر دیں کہ کیا ہر غیر مسلم سے دلی نفرت یا اسکے ساتھ شدت والا معاملہ رکھنا فرض ہے یا صرف حربی کافر کے ساتھ؟ اور اس بات کا کیسے تعین کیا جائے کہ کسی خاص غیر مسلم کے ساتھ دعوتی انداز (یعنی نرمی اور احسن سلوک) اپنایا جائے یا اسے اللہ کا دشمن سمجھ کر شدت کا معاملہ رکھا جائے؟
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
ہر کافر یا غیر مسلم کے ساتھ بد سلوکی کی اجازت اسلام میں موجود نہیں ہے ۔ اسلام نے تو بعض کفار کے ساتھ حسن سلوک سے بھی منع نہیں کیا ۔
لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُم مِّن دِيَارِكُمْ أَن تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ
اللہ تعالى تمہیں ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کرنے سے منع نہیں فرماتا جو دین کی بناء پر تم سے لڑتے نہیں اور نہ ہی تمہیں ہجرت پر مجبور کرتے ہیں ۔ یقینا اللہ تعالى انصاف کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے ۔
[الممتحنة : 8]
اور پھر جن کافروں کے ساتھ دلی دوستی لگانا منع ہے انکا ذکر اللہ تعالى نے ان الفاظ میں فرمایا ہے :
إِنَّمَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ قَاتَلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَأَخْرَجُوكُم مِّن دِيَارِكُمْ وَظَاهَرُوا عَلَى إِخْرَاجِكُمْ أَن تَوَلَّوْهُمْ وَمَن يَتَوَلَّهُمْ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ
یقینا اللہ تعالى تمہیں ایسے لوگوں سے دوستیاں کرنے سے منع فرماتا ہے جو تمہارے ساتھ دین کی بناء پر لڑتے ہیں اور تمہیں ہجرت پر مجبور کرتے ہیں اور تمہیں نکالنے پر ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں ۔ اور جو ایسے لوگوں کے ساتھ دوستی لگائے گا تو وہی ظالم ہے ۔
[الممتحنة : 9]
اور دعوت کے لیے تو اچھا انداز اپنانے کا اللہ تعالى نے حکم دیا ہے ۔ اللہ تعالى نے جب موسى وہارون علیہما السلام کو فرعون کی طرف بھیجا تو انہیں نصیحت فرمائی :
اذْهَبَا إِلَى فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَى * فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَيِّنًا لَعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَى
دونوں فرعون کے پاس جاؤ ، یقینا وہ بہت سرکش ہے۔ سو اسے نرم بات کہو، شاید کہ وہ نصیحت حاصل کر لے یا ڈر جائے ۔
[سورۃ طہ : 43،44]
یعنی فرعون جیسے سرکش انسان کو بھی اللہ تعالى نے نرمی کے ساتھ دعوت دینے کا حکم دیا ہے ۔ اور آج کے کفار فرعون سے زیادہ سرکش نہیں ، کیونکہ ان میں سے کوئی بھی اپنے رب ہونے کا دعویدار نہیں ہے!
اسی طرح رب العالمین نے نصیحت فرمائی ہے کہ
ادْعُ إِلِى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ
اپنے رب کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ذریعہ دعوت دو، اور ان سے ایسے انداز میں بحث مباحثہ کرو جو سب سے اچھا ہو۔ یقینا آپکا رب ہی راہ راست سے گمراہ ہونے والے کو سب سے زیادہ جانتا ہے اور وہی ہدایت یافتگان کو بھی سب سے زیادہ جانتا ہے۔
[النحل : 125]
هذا، والله تعالى أعلم، وعلمه أكمل وأتم، ورد العلم إليه أسلم، والشكر والدعاء لمن نبه وأرشد وقوم، وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وبارك وسلم
-
الاربعاء PM 07:10
2022-01-12 - 877





